لکھنؤ،19/ اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا اثر ہمارے ملک پر زیادہ پڑ رہا ہے-ایک طرف جہاں وہاں سے ہندوستانی سفارتخانہ کے عملے کو صحیح سلامت واپس لانے کا دباؤ تھا، وہیں اس کے یہاں پڑنے والے سیاسی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا -
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے اپنے ایک بیان میں طالبان کا موازنہ مجاہدین آزادی سے کیا جس کے بعد ان کے خلاف کیس درج ہو گیا-واضح رہے کہ شفیق الرحمان برق کے بیان کے بعد مخالف پارٹیوں کے لوگ ان کی زبردست تنقید کر رہے تھے اور بی جے پی نے تو ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا- اے بی پی نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق سنبھل کے ایس پی نے بتایا ہمیں شکایت موصول ہوئی ہے کہ رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے طالبان کا موازنہ مجاہدین آزادی کیا اور ایسے بیان ملک دشمنی کے دائرے میں آتے ہیں، اس لئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے- دواورلوگوں نے فیس بک پر ایک ویڈیو میں ایسی ہی بات کہی ہے،اس لئے ان کیخلاف بھی کیس درج کر لیا گیا ہے-
شفیق الرحمن برق کے جس بیان پر ہنگامہ ہوا ہے اس میں انہوں نے افغانستان پر قبضہ کا موازنہ ہندوستان پر انگریز وں کے قبضہ سے کیا ہے اور کہا کہ جب انگریز حکومت کو ہٹانے کیلئے ہندوستان نے جدو جہد کی، ٹھیک اسی طرح طالبان نے بھی غیر ملکیوں سے افغانستان کو آزاد کرایا -انہوں نے طالبان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں روس اور امریکہ جیسے طاقتور ملکوں کو اپنے ملک میں ٹھہرنے نہیں دیا-